شیخ چِلّی نے پکڑا چور
ایک دفعہ کا ذکر ہیکہ شیخ چلی گھر میں اکیلے تھے۔ گھر کے تمام افراد کہیں گئے ہوئے تھے وہ اگلے دن آنے والے تھے۔ اس دن موسم حوشگوار تھا۔ شام میں ہلکے ہلکے بادل آسمان پر چھا گئے تھے۔ رات کا کھنا کھانے کے بعد شیخ چلی صحن میں ایک درخت کے نیچے چار پائی پر لیٹ گئے۔ اس وقت ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ ایسے میں انہیں نیند لگ گئی۔ تھوڑی دیر بعد کھٹ پٹ جیسی آواز سے ان کی آنکھیں کھل گئیں،کیادیکھتے ہیں کہ ایک دبلا پتلہ آدمی درخت کے سہارے ان کے صحن میں اترآیا اور آہستہ آہستہ ان کے سرہانے آکے کھڑا ہوگیا۔ وہ،اسے دیکھ چکے تھے اور اطمینان کرلیاکہ اس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے چپ سادھنے لگے کچھ دیر تک انتظار کرنے کے بعد انہوں نے چور کا ہاتھ پکڑ لیا،دونوں میں کھینچاتانی شروع ہوگئی۔ شیخ چلی نے چور کی کلائی مضبوطی سے پکڑ رکھی تھی چور، جب تھک گیا تب انہوں نے اس کے چہرے سے نقاب ہٹائی اور کہنے لگے او ہو ! تم تو محلہ کے نہیں لگتے ہو،شاید پڑوسی شہر سے آئے ہو،چور نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ سرجھکائے کھڑا تھا۔
شیخ چلی بولے،بے وقوف تجھ پر ہاتھ اٹھانے پر بھی مجھے شرم آتی ہے۔ میں کسی کمزور شخص پر ہاتھ نہیں اٹھاتا میں سمجھتا ہوں کہ تجھے مارنا کسی بلی کو مارنے کے برابر ہے میں مارنے کے بجائے تجھے کوتوال کے حوالے کردوں گا۔ وہ، اسی حالت میں اسے کھینچتے ہوئے باہر لئے گئے اور دفتر کوتوال کی جانب جانے لگے اس دوران انہیں یاد آگیاکہ وہ پگڑی پہننا پھول گئے۔ بغیر پگڑی کے اگر کوتوال کے سامنے جاوں تو کیسا لگے گا ؟ یہ سوچ کر وہ آگے جانے سے رک گئے اور چور کو نصیحت کی کہ تم یہی ٹھہرو، ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنا ورنہ آپ کا حشر برا ہوگا۔ وہ یہ کہہ کر پگڑی لانے گھر چلے گئے اور جب پگڑی پہن کر دوبارہ اس مقام پر پہونچے تو وہاں چور نہیں تھا وہ موقع غنیمت جان کر فرار ہوگیا۔ چور فرار ہونے کے بعد شیخ چلی مایوس گھر واپس ہوئے۔
اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنا چاہئے اور خراب لوگوں کو ایک لمحہ کی بھی چھوٹ نہیں دینی چاہئے۔
شیخ چلی بولے،بے وقوف تجھ پر ہاتھ اٹھانے پر بھی مجھے شرم آتی ہے۔ میں کسی کمزور شخص پر ہاتھ نہیں اٹھاتا میں سمجھتا ہوں کہ تجھے مارنا کسی بلی کو مارنے کے برابر ہے میں مارنے کے بجائے تجھے کوتوال کے حوالے کردوں گا۔ وہ، اسی حالت میں اسے کھینچتے ہوئے باہر لئے گئے اور دفتر کوتوال کی جانب جانے لگے اس دوران انہیں یاد آگیاکہ وہ پگڑی پہننا پھول گئے۔ بغیر پگڑی کے اگر کوتوال کے سامنے جاوں تو کیسا لگے گا ؟ یہ سوچ کر وہ آگے جانے سے رک گئے اور چور کو نصیحت کی کہ تم یہی ٹھہرو، ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنا ورنہ آپ کا حشر برا ہوگا۔ وہ یہ کہہ کر پگڑی لانے گھر چلے گئے اور جب پگڑی پہن کر دوبارہ اس مقام پر پہونچے تو وہاں چور نہیں تھا وہ موقع غنیمت جان کر فرار ہوگیا۔ چور فرار ہونے کے بعد شیخ چلی مایوس گھر واپس ہوئے۔
اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنا چاہئے اور خراب لوگوں کو ایک لمحہ کی بھی چھوٹ نہیں دینی چاہئے۔

No comments